کیا سی پیک امریکہ کی موت ہے؟ Cpec and America

اردوپونٹ کے معزز دوستوں کو ہمارا سلام امریکہ کی بالادستی ختم اور پاکستان چین کا راج شروع ہونے کا دور آن پہنچا ہے۔چین میں بڑی کمال مہارت سے امریکہ کو کھڈے لائن لگا دیا ہے اور اب چین پاکستان کا استعمال کرتے ہوئے مشرق وسطی، براعظم ایشیا اور یورپ سمیت براعظم افریقہ کو بھی اپنے ساتھ ملانے جارہا ہے۔ یہ سارا کھیل کیسے شروع ہوا اس میں پاکستان ایران اور ترکی کا کیا کردار ہے اور کیااب تجارتی محاذ پر چائنا امریکہ کو شکست دینے جا رہا ہے.

 اس کو سمجھنے کے لئے ہمیں ماضی میں ہونے والی چند اہم ڈولپمنٹ پر غور کرنا ہوگا۔ دوستو چین کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ اس قوم نے ہر دور میں کڑی محنت سے اپنا ایک بلند مقام حاصل کیا، ہر میدان میں جین نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے مخالفین کو تڑپا کر رکھ دیا ہےاور اب کی بار چین اپنے سب سے بڑے مخالف یعنی امریکہ کو لتاڑنے کی تیاریاں کر رہا ہے چار دہائیوں سے امریکہ اور چین کے مابین سرد جنگ عروج پر ہے اور آئے روز ایسی حیران کن ڈویلپمنٹ سامنے آرہی ہیں جنہوں نے ثابت کرنا شروع کر دیا ہے کہ چین آنے والے دنوں میں سپر پاور کی کرسی پر براجمان ہونے والا ہے۔
Cpec and America
Cpec and America


 اور اس کے نتیجے میں پاکستان ایشیائی ٹائیگر بن جائے گا اس سارے گیم پلان میں سی پیک اور بیلٹ اینڈ روڈ نامی چینی پروجیکٹ کا کلیدی کردار ہے ۔اس میں اب کئی ممالک شامل ہوچکے ہیں چین نے ایران کو اس منصوبے میں شامل کرکے امریکہ اور مغرب کی نیندیں حرام کر دی ہے کیوں کہ ایران اور چین کی مزاحمتی پالیسی ایک سے ہی رہی ہے ،جبکہ پاکستان میں بھی اسی قسم کے رجحانات پائے جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ایران چین اور پاکستان کا اتحاد مغرب کی موت ثابت ہوا ہے اور رفتہ رفتہ مغربی طاقتیں اپنی موت آپ مرتی جارہی ہے۔

 چین نے حال ہی میں ایران سے 25 سالہ معاہدے کے تحت چار سو ارب کی سرمایہ کاری کے اعلامیہ پر دستخط کئے جس کے بعد ایرانی حکام نے امریکہ اور مغرب کو پیغام دیا ہے کہ اب ایران اور چین مل کر امریکہ کی بینڈ بجا دیں گے۔ اور اگر یورپ نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو وہ بھی ایران اور چین کے قہر سے بچ نہیں سکے گا ۔اس سارے کھیل کو بڑے ہی محتاط انداز میں چین، پاکستان اور ایران نے ترتیب دیا ہے جس میں ترکی اور روس کا بھی کسی حد تک عمل دخل ہے۔ چین چاہتا ہے کہ وہ ایشیا کے تمام بڑے ممالک تک رسائی حاصل کرتا ہوا یورپ میں داخل ہو اور پھر یورپ سے نکل کر براعظم افریقہ تک اپنی مصنوعات کو بیچ سکے۔

اس مقصد کے لیے چین کے پاس واحد اور سب سے بہترین آپشن پاکستان ہے اور اسی آپشن کو استعمال کرتے ہوئے چین نے سب سے پہلے پاکستان میں اپنے منصوبوں کا آغاز کیا اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے نام سے شروع کیا جانے والا چینی پراجیکٹ آج اپنی تکمیل کی جانب رواں دواں ہے۔ دوستو دنیا بھر کو احساس ہو چکا ہے کہ اب چین سے روابط بڑھانے کا مطلب پاکستان کی ہمدردی سے موسم ہے، کیونکہ مستقبل میں چین کی تمام تجارت پاکستان کے راستوں سے ہو گی جس میں گوادر کی بندرگاہ اور ایران کے زمینی راستے انتہائی اہم ہو چکے ہیں۔


 انکی مدد سے اس سارے منصوبے کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ چین گوادر کی بندرگاہ کو استعمال کرتے ہوئے عرب ممالک میں داخل ہونا چاہتا ہے گوادر کی بندرگاہ سے دبئی پورٹ تک پہنچنا انتہائی آسان ہے اور یہ سمندری راستہ مختصر ترین راستہ ہے۔ جبکہ انہی سمندری راستوں پر یورپی بحری بیڑہ سفر کرتے ہیں جو پاکستان چین اور دیگر ایشیائی ممالک سے مصنوعات لے کر یورپ جاتے ہیں۔ گوادر آنے والے دنوں میں دنیا بھر کی تجارت کا مرکز بننے جارہا ہے، دوسری جانب چین کے پاس ایک ہی زمینی راستہ موجود ہے جس میں سب سے پہلے پاکستان آئے گا اور پھر پاکستان سے ایران ،ایران سے نکل کر ترکی اور پھر ترکی سے ہوتا ہوا یورپ میں داخل ہوگا، یہ راستہ بھی دیگر تجارتی راستوں کی نسبت انتہائی اہم اور مختصر مانا جارہا ہے کیونکہ اگر جین یہ راستہ استعمال کرتا ہے تواسے ایران سے ملحقہ علاقوں میں یعنی ترکمانستان ،تاجکستان ،آرمینیا، آذربائیجان، ترکی اور روس تک رسائی حاصل ہو جائے گی۔

 یوں اس ایک روڈ کی بدولت وہ بیک وقت کئی ممالک کے ساتھ تجارت کر سکے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان عالمی طاقتوں کی نظروں میں کھٹک رہا ہے اور امریکہ چاہتا ہے کہ کسی طرح سے پاکستان کو سی پیک اور ون بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ سے الگ کر دیا جائے۔ اگر پاکستان ان منصوبہ جات سے الگ ہو جاتا ہے تو چین کی معیشت کو بڑا دھچکا لگے گا اور اس کی تجارت شدید متاثر ہوگی یہ بات چین بھی اچھے سے جانتا ہے۔ یعنی پاکستان چین کے لیے سونے کی چڑیا ہے اور وہ کسی صورت پاکستان سے الگ ہو کر سپرپاور نہیں بن سکتا۔

انہی وجوہات کی بنا پر پاکستان کے چین کے ساتھ بہترین تعلقات اور روابط بڑھا رہا ہے اور ہر شعبے میں چین کی مدد کرنے کے علاوہ پاکستان اپنی افرادی قوت سے چینی منصوبوں کو کامیاب بنانے کی جدوجہد میں مصروف نظر آتا ہے۔ عالمی امور پر نظر رکھنے والے دانشور حضرات نے واضح طور پر کہنا شروع کر دیا کیا ہے کہ وہ دن دور نہیں کہ جب امریکہ کی بالادستی ختم ہو جائے گی اور چین اور پاکستان دنیا پر راج کریں گے۔ اس حوالے سے چین نے بھی دنیا کو باور کروا رکھا ہے کہ چین پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنا کر ہی دم لے گا ۔

 سال 2015 میں چینی صدر شی جن پنگ کے ایک بیان نے خوب تہلکہ مچایا تھا جس میں چینی صدر شی جن پنگ نے کہا تھا کہ پاکستان کی خودمختاری اور سالمیت کی حمایت جاری رکھیں گے۔ چین کی مدد سے اقتصادی راہداری مشترکہ ترقی کے حصول کا منصوبہ ہے جس سے پاکستان کے تمام علاقے مستفید ہوں گے، پاکستان کے پاس ایشین ٹائیگر بننے کے مواقع موجود ہیں اس کی ہر ممکن مدد اور باہمی اقتصادی ترقی قی اور تعاون کو مکمل تحفظ دے کر اقتصادی ترقی کی راہ میں حائل ہر رکاوٹ مل کردور کریں گے۔

 حکام کے مطابق چین ترقی پذیر ملکوں کا مخلص شراکت دار ہے ترقی اور امن پر مبنی خارجہ پالیسی چین کا نصب العین ہے۔ چین دوسرے ملکوں میں عدم مداخلت کی پالیسی پر کاربند ہے لیکن افغانستان کے معاملے پر پاکستان کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ آپکو یاد ہوگا کہ پاکستان چین کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک تھا جن کے ساتھ سفارتی روابط استوار کرنے والا پہلا مسلمان ممالک بھی پاکستان ہی تھا۔ تو پاکستان اور چین کے عوام ایک خاندان کی مانند ایک دوسرے کے قابل اعتماد ساتھی، عظیم دوست اور عظیم ہمسایہ ملک ہیں۔ 

قدرتی آفات اور مشکلات میں پاکستان نے ہمیشہ جن کا ساتھ دیا اور جب بھی ضرورت پڑی چین نے آگے بڑھ کر پاکستان کی مدد کی ۔چین اور پاکستان کی دوستی ہمالیہ سے بلند تراور اللہ پاک اس دوستی کو یوں ہی قائم و دائم رکھے اور پاکستان چین کے ساتھ مل کر ترقی کی منازل طے کرتا ہوا ایشیا کا ٹائیگر بن جائے. امید کرتے ہیں ہمارا آج کی ارٹکل آپ کو پسند آئیگا۔

0/Post a Comment/Comments

Please do not enter any spam link in the comment box.